حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برازیل کی حکومت کی جانب سے سائو پائولو میں اسرائیل کے نئے قونصل جنرل کی تقرری کی منظوری سے انکار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ یہ اقدام اسرائیلی سفیر کی نامزدگی مسترد کیے جانے اور غزہ جنگ کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ برازیل نے اسرائیل کی جانب سے ویویان آیزن کو سائو پائولو کا قونصل جنرل مقرر کرنے کی منظوری نہیں دی۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق برازیل کا یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
برازیل کی حکومت نے اس سے قبل اسرائیل کے نامزد سفیر گالی ڈاگان کی تقرری کو بھی قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ اگر موجودہ قونصل جنرل رافی اردرایش اپنی مدت مکمل کرکے واپس جاتے ہیں اور نئے قونصل جنرل کی تعیناتی نہیں ہوتی تو اسرائیل برازیل میں اپنے اعلیٰ ترین سفارتی نمائندوں سے محروم ہو سکتا ہے، کیونکہ سائو پائولو میں اسرائیل کا واحد قونصل خانہ موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے قونصل جنرل اردرایش کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر کے اس خلا کو روکنے کی کوشش کی ہے، جبکہ برازیل میں اسرائیلی سفارت خانے کے امور فی الحال نائب سفیر انجام دے رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق 2026ء کے برازیلی صدارتی انتخابات تک دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔ موجودہ صدر لوئیز ایناسیو لولا دا سلوا کے مقابلے میں سابق صدر جائیر بولسونارو کے بیٹے فلاویو بولسونارو میدان میں ہوں گے، جنہیں اسرائیل کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
برازیل اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی غزہ جنگ کے بعد بڑھی، جب لولا دا سلوا نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام عائد کیا اور تل ابیب سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔ ان بیانات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں سرد مہری پیدا ہوگئی۔









آپ کا تبصرہ